عاد[1]

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - ایک قوم جس کی ہدایت کے لیے حضرت ہود علیہ اسلام کو بھیجا گیا، جب اس نے نافرمانی کی تو طوفان باد کا عذاب نازل ہوا اور وہ ہلاک ہوئی۔ "عاد عرب کی ایک قوم تھی جس پر خدا کا عذاب نازل ہوا۔"      ( ١٩٧٥ء، الشجاع، کراچی، ٢٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم جامد ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے۔ اور سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - ایک قوم جس کی ہدایت کے لیے حضرت ہود علیہ اسلام کو بھیجا گیا، جب اس نے نافرمانی کی تو طوفان باد کا عذاب نازل ہوا اور وہ ہلاک ہوئی۔ "عاد عرب کی ایک قوم تھی جس پر خدا کا عذاب نازل ہوا۔"      ( ١٩٧٥ء، الشجاع، کراچی، ٢٩ )

جنس: مذکر